شروع میں تو یہ یمن حکومت اور یمن کے شمالی علاقوں میں موجود شیعہ مجاہدین کے درمیاں ایک ملکی اور داخلی مسئلہ نظر آرہا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور سعودی عرب اور اردن کی فوجی مداخلت سے یہ مسئلہ ایک پیچیدہ علاقائی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
یمن کے شمالی علاقوں بالخصوص صعدہ میں موجود زیدی مسلک کے باشندوں اور یمن کے آمر جنرل علی عبداللہ صالح کے درمیان شہری حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے چپقلش کافی عرصے سے جاری ہے۔
عراق کے سابق آمر صدام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جنرل علی عبداللہ صالح نے بھی زیدی شیعہ مسلک کے ان افراد کو انتہائي پسماندہ رکھا ہوا ہے اور اس علاقے کے عوام روزمرہ کی ضروریات کے حوالے سے بھی دوسرے صوبوں اور علاقوں کے محتاج ہیں۔
سن 2004 میں جب یمنی فوج نے زیدی مسلک کے رہنما سید حسین الحوثی کو قتل کیا اور بڑے پیمانے پر ان کے ماننے والوں کا قتل عام کیا تو الحوثی نام سے ایک گروہ وجود میں آیا۔
حکومت یمن اور ان کے درمیان کشیدگي پہلے بھی زوروں پر تھی لیکن سید حسین الحوثی کے قتل کے بعد اس میں مزید شدت آگئی۔
یمنی حکومت گزشتہ چند سالوں سے اس گروہ کو ختم کرنے میں کوشاں تھی اور مختلف حیلے بہانوں سے صوبہ صعدہ کو حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا تا ہم دو ماہ قبل یمنی حکومت نے شیعہ مجاہدین پر نو غیر ملکیوں کے اغوا کا الزام لگایا۔ ان نوغیر ملکیوں میں ایک برطانوی ایک کوریائی اور سات جرمن شہری شامل تھے۔
یمن کی مرکزي حکومت نے ایک سازش کے تحت ان غیر ملکیوں کو قتل کروادیا اور ان میں سے تین کی لاشوں کو منظر عام پر لاکر الحوثی گروہ کے خلاف کاروائی شروع کردی۔
شیعہ مجاہدین کے رہنما عبدالملک نے اغوا اور قتل کی اس واردات کی مذمت کی اور حکومت کے الزام کو سختی سے مسترد کیا لیکن یمنی حکومت نے طے شدہ منصوبے کے تحت اپنی جنگي کاروائي جاری رکھی۔
گیارہ اگست سن 2009 میں یمنی حکومت نے مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہونے کی وجہ سے جنگ بندی کی پینٹنگیں بڑھائیں اور اعلان کیا کہ اگر صعدہ صوبے میں اغوا ہونے والے غیر ملکی باشندوں کو رہا کردیا جائے تو شیعہ مجاہدین پر حملے بند کئے جا سکتے ہیں لیکن کچھ عرصے کے بعد یمنی حکومت نے از خود اس شرط کو ختم کردیا اسی دوران امریکہ نے جنرل علی عبداللہ صالح کےساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے اور طے پایا کہ اگر یمن کی حکومت امریکہ کی پیش کردہ شرائط کو قبول کرے تو وہ شیعہ مجاہدین کے خلاف حکومت یمن کی بھرپور حمایت کرے گا۔
امریکی حمایت کے اعلان کے فورا" بعد یمن کی حکومت کی طرف سے شیعہ مجاہدین کے خلاف جنگ اور حملوں میں تیزی آگئی۔
امریکی اور یمنی حکومت کے اس معاہدے کے مختصر عرصے کے بعد سعودی عرب اس معرکے میں کودپڑا اوراس کے جنگي طیارے اور بری فوج الحوثی گروہ کو کچلنے میں مصروف ہوگئی۔
سعودی عرب کی طرف سے فاسفورس بموں کا استعمال ، عام شہریوں کے رہائشی مکانات کو بمباری کرکے تباہ و برباد کرنا اور یمن کے بعض علاقوں خاص کے صعدہ صوبے کے شہروں اور دیہاتوں میں گھس کے عام شہریوں کا قتل عام سعودی فوجیوں کی بربریت کے وہ چند نمونے ہیں جنہیں یمن کے شمالی علاقوں میں بڑي آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔
سعودی عرب کے جنگي طیاروں اور مسلح فوجیوں نے شیعہ مجاہدین کے نہتے عوام جن میں بے گناہ بچے، عورتیں اور بوڑھے شامل تھے کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا لیکن جنگ کے میدان میں وہ شیعہ مجاہدین کا مقابلہ نہ کرسکے جس کے نتیجے میں انہوں نے اردن کو اپنی مدد کے لئے بلایا۔
اس وقت یمنی فوج کے علاوہ سعودی عرب اور اردن کے فوجی بھی الحوثی گروہ کے مجاہدین کو کچلنے کے لئے مصروف عمل ہیں لیکن تازہ ترین صورتحال کے مطابق تینوں ممالک کی افواج شیعہ مجاہدین کی گوریلا جنگ سے خائف ہوچکی ہیں اور وہ اپنی ساکھ بچانے کے لئے اور دوسرے ملکوں سے مدد حاصل کرنے کا پروگرام بنا رہی ہے۔
سعودی عرب اور اردن کی فوج شیعہ مجاہدین کے خلاف میدان جنگ میں توآگئی تھی لیکن اب اسے احساس ہورہا ہے کہ شیعہ مجاہدین اپنے دفاع میں گوریلا جنگ لڑرہے ہیں اور سعودی عرب اور اردن کے پاس چھاپہ مار کاروائیاں کا مقابلہ کرنے کے لئے نہ تو تیاری ہے اور نہ ہی حوصلہ۔
شیعہ مجاہدین اپنی سرزمین اور اپنے وجود کی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں ان کا جوش و جذبہ اور مرمٹنے کا عزم بہت بلند ہے جبکہ سعودی اور اردنی فوج میں اس طرح کے جذبے کا فقدان ہے اور نفسیاتی حوالے سے بھی ان کی اس جنگ میں دلچسپی حکومتی حکم ماننے کے علاوہ کچھ نہیں۔
سعودی عرب کی طرف سے اس جنگ میں شرکت کے کئی منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں جو بعض تجزیہ نگاروں کے بقول اس جنگ کی آگ سعودی فرمان روا شاہ عبداللہ کی اقتدار کی کرسی تک بھی پہنچ سکتی ہے.
سعودی عرب کے تین جنوبی صوبوں جیزان ، عسیر اور نجران میں اسماعیلی فرقے کے لوگ آباد ہیں جو سعودی حکومت کے مسلسل جبر و تشدد کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں شیعہ مجاہدین سے انکی مسلکی ہم آہنگي نیز سعودی مظالم کے ردعمل میں یہ گروہ سعودی حکومت کے خلاف میدان عمل میں آسکتا ہے اور شیعہ مجاہدین کی حمایت میں سعودی اقتدار کےلئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مذکورہ بالا تینوں صوبے سعودی عرب نے یمن سے کرائے پر حاصل کئے تھے اور لیز کی مدت سن 1990 کے عشری میں ختم ہوچکی ہے چنانچه یہ صوبے اب یمن کو لوٹانے کا وقت ہے مگر سعودی عرب مختلف سازشوں کے تحت ایسا کرنے سے اجتناب کررہا ہے.
یمن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق الحوثی مجاہدین جنگ شروع ہوتے وقت اتنےا مضبوط نہیں تھےا لیکن حکومتی رویے اور بیرونی مداخلت کی وجہ سے اس کی عوامی مقبولیت میں تیزي سے اضافہ ہوا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں سنی شیعہ افراد اس گروپ میں شامل ہورہے ہیں۔
شیعہ مجاہدین کا اس وقت پورے صعدہ صوبے پر مکمل کنٹرول ہے اور صعدہ کو شمالی اور مشرقی یمن سے ملانے والی اہم اسٹریٹجک شاہراہ بھی الحوثی مجاہدین کے کنٹرول میں ہے۔
صعدہ کے مجاہدین کے پاس ساٹھ سے زيادہ فوجی چوکیاں ہیں اور وہ دشمن کے ہوائی حملوں کے سامنے بھی دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شیعہ مجاہدین کے سربراہ عبدالمالک بدرالدین حوثی نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ اگر ہم پر حملہ ہوگا تو ہمارے پاس دفاع کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
بدرالدین حوثی نے یمن کی مرکزي حکومت اور میڈیا کے جانبدارانہ رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا یمن کی مرکزي حکومت نے جب صعدہ کے بعض رہائشی علاقوں پر بمباری کی اورلوگوں کے گھروں کو مسمار کیا تو اس غیر قانونی اور غیر انسانی اقدام پر کسی نے ایک لفظ تک نہیں کہا اور عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی اس علاقے کی مظلومیت کو کوریج دینے کی بجائے حقائق کو عالمی برادری سے چھپایا۔ہمارے علاقوں میں گھروں کو تباہ کیا گیا ، علاقے کا محاصرہ کیا گيا اور ہزاروں افراد کا قتل عام ہوا حتی یمنی حکومت نے امدادی اداروں کو بھی صعدہ کے متاثرہ علاقوں میں نہیں جانے دیا
الحوثی گروہ کے سربراہ نے یہ بات زوردے کر کہی کہ ہم جنگ جاری رکھنے کے متمنی نہیں ہیں لیکن ہم پر حملہ ہوا اور ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو دفاع کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا۔